یہ مجرمانہ خاموشی کب تک

رضاء اللہ عبدالکریم المدنی

ناظم اعلیٰ :المعہد، رچھا، بریلی

یہ مجرمانہ خاموشی کب تک

غلو عقیدت، بہت پرانی،موذی اور بے حد ضدی بیماری ہے، اس بیماری کے جراثیم مسلسل جہالت بھری زندگی، اندھ وشواس اور خیالی تک بندیوں سے پنپتے اور پروان چڑھتے ہیں اور کوئی چراغ ہدایت جلائے تو بعض سعید ونیک بخت روحیں تو بے شک اس بیماری سے شفایاب ہوجاتی ہیں مگر اکثریت باپ دادا اور اکثریت کی روش کو دلیل بناکر مزید اندھ وشواس میں مبتلا ہوجاتی اور ایمان ویقین کی راہ دکھانے والے کی دشمن بن جاتی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام وہ پہلے نبی ہیں جو اس بیماری میں مبتلا قوم کی طرف نبی ورسول بناکر بھیجے گئے، آپ نے کمال خلوص، ہمدردی، خیرخواہی، نرم مزاجی اور مسلسل جدوجہد سے اپنی قوم کو ایک لمبی مدت تک اس بیماری سے نکال کرایمان ویقین سے وابستہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کئی صدیاں گذرجانے کے بعد بھی قوم میں ایمانی کیفیت پیدانہیں ہوئی تو اللہ کے اس صابر وحلیم نبی نے آخر دربار الٰہی میں درخواست کی کہ اے اللہ! میں نے اپنی قوم کو ایمان ویقین کی طرف بلانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، قوم جس بیماری میں مبتلا ہے،اس سے شفایاب ہونے کی امید باقی نہیں رہی، اگر ان کا ایک فرد بھی باقی بچا تویہ بیماری یونہی باقی رہے گی اور آئندہ آنے والی نسلیں بھی متعصب، جاہل اور اندھ وشواسی ہی پیداہوں گی۔ سوائے اس کے کہ ان کی پوری نسل کو ہی ختم کردیا جائے اور کوئی علاج ممکن نہیں، اس نبی کی شب وروز کی تگ ودو اور اخلاص بھری کوششوں کا نتیجہ چوں کہ اس کی بات کو سچ ثابت کررہا تھا اور جس قدر مدت اصلاح پزیرہونے کے لیے اس قوم کو دی گئی تھی، اتنی مدت کسی اور قوم کو نہیں دی گئی،پھر بھی ان کا اصلاح پزیر نہ ہونا حضرت نوح کی دعا اور ان کے نکالے ہوئے نتیجہ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کافی تھا، اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو ایک طوفان عظیم کے ذریعہ ہلاک وبرباد کردیا۔
مدتوں غلوعقیدت کی اس بیماری سے نسل انسانی محفوظ رہی، لیکن شیطان جو ہمارا ازلی دشمن ہے اس نے پھر ہمیں باربار اس موذی مرض کا شکار بنایا اور انبیائے کرام کی دعوتی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اس کو بطور ہتھیار اپنایا۔
سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ جب اس دنیا میں ہادی ومرشد بن کر آئے اور انہوں نے اپنی دعوتی سرگرمیوں کا آغاز کیا توکسی اور نسخہ سے نہیں شیطان نے اسی پرانے نسخے سے آپ کی دعوت کو ناکام بنانے کا کام کیا۔ باپ دادا کی محبت، معبودان باطلہ کی عظمت وعقیدت کو بنیاد بناکر ہی وہ آپ سے برسرپیکار تھے اور ان کے پاس سوائے اس کے کہ یہ معبود ہمارے بڑی عظمتوں والے اور بڑے چمتکاری ہیں، فلاں موقعہ پر یہ کیا، فلاں واقعہ میں انہوں نے یہ کیا، ہمارے آباء واجداد اسی بنیاد پر ان سے حاجت روائی مشکل کشائی کرتے تھے ہم ان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کو خالق ارض وسماء، مارنے، جلانے والا، بارش برسانے والا ماننے کے باوجود وہ اپنے ان بزرگوں کو، جن کو ان کے آباء واجداد حاجت روا، مشکل کشا مانتے تھے، مانتے رہے اور فتح مکہ تک یونہی اپنی عادتوں، عقیدتوں اور ہٹ دھرمیوں پر ڈٹے رہے۔
آپ ﷺ نے اپنی پاکیزہ تعلیمات کے ذریعہ ان کھوکھلی اور بے سود، بے حقیقت عقیدت مندیوں کو پاش پاش کردیا، لیکن شیطان نچلانہ بیٹھا اس نے خود رحمۃ للعالمین اولیائے امت فضلائے ملت کے متعلق غلوعقیدت کی اس پرانی بیماری کو قوم مسلم کے رگ وریشہ میں پیوسط کردیا۔
اطاعت رسول جو اصل عظمت رسول کا عنوان ہے اس کو اپنی زندگیوں سے نکال کر صرف سوکھی نعرے بازی، دھوم دھڑکا، جھانکیاں، آتش بازیاں، راگ رنگ اور باجے گاجے سے لے کر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ڈانس بھنگڑا یہ سب وہ کرتوت ہیں جن کو دیکھ ایک ایمان والا شرم سے پانی پانی ہوجائے۔
مگر افسوس! ان تمام کا رہائے معصیت کو وہ لوگ اپنی شرکت، رضامندی اور اندھی عقیدت میں اپنی سرپرستی میں کروارہے ہیں،جن کو حقیقی عظمت رسول کا وارث اور معاصی ومنہیات کا منع کرنے والا ہونا چاہیے تھا، سوشل میڈیا کے سبب ہندوپاک میں ولادت رسول کے عنوان سے جو کچھ جاہل مسلمان کررہے ہیں، یہ سب منہیات شرعیہ ومکروہات اسلامیہ، جن حضرات کی سرپرستی میں انجام دیئے جارہے ہیں، ان میں ایک طبقہ تو وہ ہے جو اصحاب جبہ دستار کہلاتا ہے۔ اس موقع پر جمع ہونے والی بھیڑکو یہ حضرات کاروبار پیری مریدی سے جوڑ کر ارباب اقتدار کو یہ یقین دلانے کے لیے کرتے ہیں کہ ہمارے پیچھے اتنے مرید ہیں، حکومت یا کسی اورکو مسلمانوں کاووٹ چاہیے تو ہم سے بات کرے۔ اسی طرح دوسرا طبقہ وہ ہے جو یا تو مسلمانوں کے ووٹ کے بل پر سَتہّ کی ملائی کے مزے لوٹ رہاہے یاسیاست نے اس کو کنارے لگادیا ہے اور اس کے پاس حکمراں طبقہ کو اپنی طاقت اور اپنے پیچھے ووٹ پاور دکھانے کے لیے کوئی اور ذریعہ میسر نہیں۔
عیدمیلاد النبی یا جشن عیدمیلاد، یااسی سے ملتے جلتے ناموں سے ہونے والے یہ سارے ہنگامے ہمارے سامنے وجود پزیر ہوئے ہیں، ان ہنگاموں سے قبل جلوس محرم یا چہلم پر یہ سب کچھ کیا جاتاتھا اور مظلومِ کربلا کی دردناک شہادت کو ڈھول وباجے گاجے سے گلی کوچوں میں ان کے مزارات کی شبیہ گھمائی جاتی تھی۔علمائے اہل حدیث وسنت ایک زمانہ تک عوام کو ان کے پیشوا کے فتوے ان تعزیوں کی حرمت میں دکھاتے رہے اور پوچھتے رہے کہ آخر تم کس کے پیرو ہو؟علمائے حق اہل حدیث ودیوبندتو اس کو ناجائز بتاتے اور اس کو حرام قرار دیتے ہیں، علمائے بریلی بھی اس کو ناجائز، حرام اور احترام اولیاء واحترام اہل بیت کے خلاف قراردیتے ہیں، توآپ لوگ کس کے کہنے سے یہ سب کررہے ہیں؟ تقریبا پچاس سال کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور خود علمائے بریلی نے اپنی مجالس ومواعظ میں ان رسومات کو غلط کہنا شروع کیا۔ اور اس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور تعزیہ داری کی رسومات پر کافی بندش لگ گئی، لیکن غلو عقیدت ایسی موذی بیماری ہے کہ اگر کسی سبب ایک بد رسم بند ہونے لگے تو بہت جلد دوسری رسم نکلوالیتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ نام احترام اولیاء کا نہ ہو کراحترام رسول کا رکھ لیا جائے۔
اندھی عقیدت کبھی یہ نہیں سوچنے دیتی کہ جو کام رسول نے اپنی ۳۶/سالہ زندگی میں نا کیا ابوبکر نے اپنی زندگی میں اور عمر فاروق نے اپنی زندگی میں اس کا نام تک نا سنا ہو، عثمان غنی، علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین نے جس کی ضرورت محسوس نا کی ہو، ائمہ اربعہ نے اپنی کتابوں میں یاان کے شاگردوں نے اپنی اپنی کتابوں میں نااس کا ذکر کیا ہو، نا اس کا باب قائم کیا ہو،نا اس کے آداب قلم بند فرمائے ہوں، وہ کام چودھویں صدی میں اس قدر ضروری کیوں کر ہوگیا؟
احترام رسول کے نام پر لڑکوں لڑکیوں کے ڈانس، ڈھول ڈھماکے اور بھنگڑے اگر دین ہیں یا دین کا حصہ ہیں یا کارثواب ہیں تو ذرایہ بھی بتایا جائے کہ یہ دین کون ساہے، اور کس کاہے؟ دین محمدتو نہیں ہوسکتا۔ عہد رسول، عہد تابعین، تبع تابع عہد خلفائے راشدین، امامان دین ومجتہدین میں جس کا کوئی وجود نہ ہو، جس کا ذکر تابعین تبع تابعین امامان دین نے اپنی کتابوں میں نا کیا ہو، محدثین نے کسی کتاب میں ایک لفظ اس کے متعلق نا لکھا ہو،اس کو اس قدر ضروری اور کار دین بنالینا اور علماء کا اس پر چپ سادھ لینا کیا مجرمانہ خاموشی نہیں ہے؟ کیا انکار منکر، ردباطل اور دین کی حفاظت علماء کا کام نہیں ہے،کیا علماء نما جہلاء ان معاصی کو احترام رسول کے نام پر کرواکر امت کو اندھی عقیدت کے جام پلاکر ان کو حقیقی محبت رسول عظمت رسول، احترام رسول سے دور نہیں کررہے ہیں؟؟
ضرورت ہے علماء کرام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور امت کی صحیح رہنمائی فرمائیں۔ وماعلینا الا البلاغ۔

رہے نام اللہ کا !