شیطانی مزاج

                         اعجاز شفیق ریاضی

شیطانی مزاج
قال تعالیٰ:(وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَاءِکَۃِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّہِ أَفَتَتَّخِذُونَہُ وَذُرِّیَّتَہُ أَوْلِیَاء مِن دُونِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ بِءْسَ لِلظَّالِمِیْنَ بَدَلا) (الکہف:۰۵)
ترجمہ:۔اور جب ہم نے فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے لیے کہا تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جنات میں سے تھا تو اس نے اپنے رب کی حکم عدول کی تو کیا تم اس کو اور اس کی ذریت کو اپنا دوست بنا لوگے حالاں کہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ایسے ظالموں کا کیا ہی برابدلہ ہے۔
تشریح:۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ اس نے ہی خیرخواہی کے لبادہ میں سازش کرکے اپنے آپ کو آدم کا ناصح، ہمدرد وبہی خواہ باور کراکے ان کو اس قدر سخت نقصان سے دو چار کیا کہ ابدی جنت سے نکلوا کر غیر آباد زمین پر لے آیا اور بارگاہ الہٰی میں شرمندہ کیا۔ ابتدائے آفرینش سے ہی انسانوں سے اپنی ازلی دشمن کا بگل بجایا اور جنت سے محروم کرکے واصل جہنم کرادینے کا بیڑہ اٹھایا۔ رحمن ورحیم پروردگار نے شیطانی ہتھکنڈوں، مکاریوں، جعل سازیوں سے متنبہ وخبردار کرنے کے لیے آسمانی ہدایات کا سلسلہ قائم کیا اور آخر میں قیامت تک کے لیے باقی رہنے والے دستور میں اس کی تمام حشر سامانیوں، فریب کاریوں کا تذکرہ کرکے ان سے بچنے کی تدابیر بھی سکھائیں۔ اور خوب خوب جتلادیا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے لہٰذا اس کو اپنا دشمن تصور کروکہا (إِنَّ الشَّیْْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوہُ عَدُوّاً) اور فرمایا:(أَفَتَتَّخِذُونَہُ وَذُرِّیَّتَہُ أَوْلِیَاء مِن دُونِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ بِءْسَ لِلظَّالِمِیْنَ بَدَلا) شیطانوں کو اللہ کے علاوہ اپنا ولی بنالینے کا مطلب کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ اس کی اطاعت وفرماں برداری کی جائے شیطانی کاموں کو اختیار کیا جائے اور صراط مستقیم کے خلاف اس کے ذریعہ پھیلائی گئی گمراہیوں کی نوع بنوع تنگ وتاریک گلیوں پر چلاجائے، اس کے ذریعہ آراستہ کی گئی برائیوں و بے حیائیوں کو اختیار کیا جائے اور آسمانی ہدایت کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ بغوی قتادہ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:”بئس ما استبدلوا طاعۃ ابلیس وذریتہ بعبادۃ ربھم“ ابن کثیر لکھتے ہیں:”ثم قال مقرعا وموبخا لمن اتبعہ واطاعہ“ قرطبی فرماتے ہیں:”بئس عبادۃ الشیطان بدلا عن عبادۃ اللہ“اور صدیق حسن خاں بھوپالی رحمہ اللہ کی عبارت ہے:”فتطیعونھم بدل طاعتی وتستبدولونھم بی“۔
قرآن مجید نے شیطانی ہتھکنڈوں کا ذکر کیا تاکہ انسان ان سے ہوشیار ہوکر اپنا بچاؤ کرسکیں اور راہ ضلالت پر قدم زن ہونے سے اپنے آپ کو بچاسکیں۔ آیئے اس حوالے سے کچھ آیات دیکھتے ہیں۔ فرمایا:”اے لوگو! زمین سے حلال اور طیب چیزیں کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تمہیں برائی اور بے حیائی کی باتوں کا حکم دے گا اور اس بات کا بھی کہ تم اللہ کے خلاف بلا علم جھوٹی باتیں کہو“۔ (البقرہ:۹۶۱-۰۷۱) گویا شیطان یہ چاہتاہے کہ انسان حلال اشیاء کو چھوڑ کر حرام چیزوں کو مرغوب جانیں،ان کے شوقین ودلدادہ ہوں۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھیں اور حلال کردہ کو حرام، اپنی طرز زندگی خود طے کریں۔ احکام خداوندی سے آزاد ہوجائیں اور اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے کریں، اسلام میں جو رب کی تابعداری کا اصل الاصول ہے اس کے برعکس نفسانی خواہشات اور خودساختہ اصول وآداب کا خود کو پابند کرلیں۔ برائی، زناکاری بے حیائی لواطت اور دیگر فحش امور کا ارتکاب کریں،دین کے نام پر اپنی جانب سے نئی نئی بدعات ایجادکریں اور اللہ کے خلاف بلاعلم باتیں کرتے پھریں۔
قرآن یہ چاہتاہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں ہمہ وقت، وہمہ جہت، ہمہ تن مسلماں ہو رب کا تابعدار اور فرماں بردار ہو، اس کی پوری زندگی کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، صنعت وحرفت، معیشت وتجارت، رنج وغم، فرحت وشادمانی کے لمحات رب کی مرضی کے مطابق ہوں۔ جب کہ شیطان اس کے برعکس اصلاکلی طورپر اسلام سے عاری دیکھنا چاہتاہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو جزوی اسلام، آدھی ادھوری فرماں برداری میں ہی مست ومگن رکھنا چاہتاہے۔ قرآن کہتاہے:(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ)
شیطان چاہتاہے کہ مسلمانوں میں آپسی اتحاد، باہمی اخوت وبھائی چارہ نہ رہے بلکہ اس کی جگہ آپسی نفرت وعداوت پروان چڑھے اور مسلمان آپس میں کبھی متحد نہ ہوسکیں۔ اللہ کے ذکر اور بطور خاص اپنے خصوصی ہتھیار دعا و نماز سے دور رہیں۔ اس کے لیے وہ مختلف تدبیریں کرتاہے۔ فرمایا: ”اے مومنو! بے شک شراب، جوا، بت، قسمت آزمائی کے پانسے وغیرہ یہ سب گندی چیزیں اور شیطانی کام ہیں۔ تو ان چیزوں سے تم پرہیز کرو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔ اس میں شک نہیں کہ شیطان چاہتاہے کہ وہ تم میں نفرت وعداوت پیداکردے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے تو کیا تم پھربھی (ان امور سے) باز نہ آؤگے۔بہر حال شیطان اپنے کام میں لگاہوا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ازلی دشمن کی تدبیروں کو سمجھے اور صرط مستقیم پر ڈٹارہے۔ اللہ نیک سمجھ دے۔آمین!

أَوْلِیَاء مِن دُونِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ بِءْسَ لِلظَّالِمِیْنَ بَدَلا) (الکہف:۰۵)
ترجمہ:۔اور جب ہم نے فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے لیے کہا تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ جنات میں سے تھا تو اس نے اپنے رب کی حکم عدول کی تو کیا تم اس کو اور اس کی ذریت کو اپنا دوست بنا لوگے حالاں کہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ایسے ظالموں کا کیا ہی برابدلہ ہے۔
تشریح:۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ اس نے ہی خیرخواہی کے لبادہ میں سازش کرکے اپنے آپ کو آدم کا ناصح، ہمدرد وبہی خواہ باور کراکے ان کو اس قدر سخت نقصان سے دو چار کیا کہ ابدی جنت سے نکلوا کر غیر آباد زمین پر لے آیا اور بارگاہ الہٰی میں شرمندہ کیا۔ ابتدائے آفرینش سے ہی انسانوں سے اپنی ازلی دشمن کا بگل بجایا اور جنت سے محروم کرکے واصل جہنم کرادینے کا بیڑہ اٹھایا۔ رحمن ورحیم پروردگار نے شیطانی ہتھکنڈوں، مکاریوں، جعل سازیوں سے متنبہ وخبردار کرنے کے لیے آسمانی ہدایات کا سلسلہ قائم کیا اور آخر میں قیامت تک کے لیے باقی رہنے والے دستور میں اس کی تمام حشر سامانیوں، فریب کاریوں کا تذکرہ کرکے ان سے بچنے کی تدابیر بھی سکھائیں۔ اور خوب خوب جتلادیا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے لہٰذا اس کو اپنا دشمن تصور کروکہا (إِنَّ الشَّیْْطَانَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوہُ عَدُوّاً) اور فرمایا:(أَفَتَتَّخِذُونَہُ وَذُرِّیَّتَہُ أَوْلِیَاء مِن دُونِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ بِءْسَ لِلظَّالِمِیْنَ بَدَلا) شیطانوں کو اللہ کے علاوہ اپنا ولی بنالینے کا مطلب کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ اس کی اطاعت وفرماں برداری کی جائے شیطانی کاموں کو اختیار کیا جائے اور صراط مستقیم کے خلاف اس کے ذریعہ پھیلائی گئی گمراہیوں کی نوع بنوع تنگ وتاریک گلیوں پر چلاجائے، اس کے ذریعہ آراستہ کی گئی برائیوں و بے حیائیوں کو اختیار کیا جائے اور آسمانی ہدایت کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ بغوی قتادہ سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:”بئس ما استبدلوا طاعۃ ابلیس وذریتہ بعبادۃ ربھم“ ابن کثیر لکھتے ہیں:”ثم قال مقرعا وموبخا لمن اتبعہ واطاعہ“ قرطبی فرماتے ہیں:”بئس عبادۃ الشیطان بدلا عن عبادۃ اللہ“اور صدیق حسن خاں بھوپالی رحمہ اللہ کی عبارت ہے:”فتطیعونھم بدل طاعتی وتستبدولونھم بی“۔
قرآن مجید نے شیطانی ہتھکنڈوں کا ذکر کیا تاکہ انسان ان سے ہوشیار ہوکر اپنا بچاؤ کرسکیں اور راہ ضلالت پر قدم زن ہونے سے اپنے آپ کو بچاسکیں۔ آیئے اس حوالے سے کچھ آیات دیکھتے ہیں۔ فرمایا:”اے لوگو! زمین سے حلال اور طیب چیزیں کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تمہیں برائی اور بے حیائی کی باتوں کا حکم دے گا اور اس بات کا بھی کہ تم اللہ کے خلاف بلا علم جھوٹی باتیں کہو“۔ (البقرہ:۹۶۱-۰۷۱) گویا شیطان یہ چاہتاہے کہ انسان حلال اشیاء کو چھوڑ کر حرام چیزوں کو مرغوب جانیں،ان کے شوقین ودلدادہ ہوں۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھیں اور حلال کردہ کو حرام، اپنی طرز زندگی خود طے کریں۔ احکام خداوندی سے آزاد ہوجائیں اور اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے کریں، اسلام میں جو رب کی تابعداری کا اصل الاصول ہے اس کے برعکس نفسانی خواہشات اور خودساختہ اصول وآداب کا خود کو پابند کرلیں۔ برائی، زناکاری بے حیائی لواطت اور دیگر فحش امور کا ارتکاب کریں،دین کے نام پر اپنی جانب سے نئی نئی بدعات ایجادکریں اور اللہ کے خلاف بلاعلم باتیں کرتے پھریں۔
قرآن یہ چاہتاہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں ہمہ وقت، وہمہ جہت، ہمہ تن مسلماں ہو رب کا تابعدار اور فرماں بردار ہو، اس کی پوری زندگی کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، صنعت وحرفت، معیشت وتجارت، رنج وغم، فرحت وشادمانی کے لمحات رب کی مرضی کے مطابق ہوں۔ جب کہ شیطان اس کے برعکس اصلاکلی طورپر اسلام سے عاری دیکھنا چاہتاہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو جزوی اسلام، آدھی ادھوری فرماں برداری میں ہی مست ومگن رکھنا چاہتاہے۔ قرآن کہتاہے:(یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ)
شیطان چاہتاہے کہ مسلمانوں میں آپسی اتحاد، باہمی اخوت وبھائی چارہ نہ رہے بلکہ اس کی جگہ آپسی نفرت وعداوت پروان چڑھے اور مسلمان آپس میں کبھی متحد نہ ہوسکیں۔ اللہ کے ذکر اور بطور خاص اپنے خصوصی ہتھیار دعا و نماز سے دور رہیں۔ اس کے لیے وہ مختلف تدبیریں کرتاہے۔ فرمایا: ”اے مومنو! بے شک شراب، جوا، بت، قسمت آزمائی کے پانسے وغیرہ یہ سب گندی چیزیں اور شیطانی کام ہیں۔ تو ان چیزوں سے تم پرہیز کرو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔ اس میں شک نہیں کہ شیطان چاہتاہے کہ وہ تم میں نفرت وعداوت پیداکردے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے تو کیا تم پھربھی (ان امور سے) باز نہ آؤگے۔بہر حال شیطان اپنے کام میں لگاہوا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ازلی دشمن کی تدبیروں کو سمجھے اور صرط مستقیم پر ڈٹارہے۔ اللہ نیک سمجھ دے۔آمین!