محرم و عاشوراء کے متعلق بعض ضعیف احادیث

از

محمد التمش ذوالفقار احمدالسراجی

استاذ :المعہد،رچھا ،بریلی

محرم و عاشوراء کے متعلق بعض ضعیف احادیث

بلا شبہ ماہ محرم الحرام ایک عظیم اور شرف و فضیلت کا حامل مہینہ ہے ۔مگر دیگر اعمال وایام کی طرح اس ماہ کے متعلق بھی بہت سی ضعیف اور جھوٹی حدیثیں لوگوں نے گڈھ رکھی ہیں۔ذیل کی سطور میں عاشورا ء اور محرم کی فضیلت میں مروی بعض ضعیف و موضوع احادیث اور ان کی کچھ تفصیل ذکر کی جا رہی ہے۔

*پہلی حدیث: ’’من صام آخر یوم من ذی الحجۃ وأول یوم من المحرم فقدختم السنۃالماضیۃ بصوم وافتتح السنۃ المستقبلۃبصوم،جعل اللہ لہ کفارۃ خمسین سنۃ۔ ‘‘(الموضوعات لابن الجوزی:۲؍۵۶۶؍۱۱۳۸)

ترجمہ: جس نے ذوی الحجہ کے آخری دن اور محرم کے پہلے دن کا روزہ رکھا تو (اس طرح)اس نے گذشتہ سال کا اختتام روزہ سے کیا اور آنے والے سال کا افتتاح روزے سے کیا تو(ایسا کرنے والے شخص کو )اللہ تعالی پچاس سال کے گناہوں کا کفارہ عطا کرے گا ۔

سند الحدیث: ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں :’’أنبأنا محمد بن ناصر قال: أنبأنا أبوعلی الحسن بن أحمد قال:حدثنا ابن أبی الفوارس قال: أنبأنا عمر بن أحمد قال: حدثنا محمد بن أحمد بن أیوب قال:حدثنا أحمد بن شاذان قال:حدثنا أحمد بن عبد اللہ الھروی قال:حدثنا وھب بن وھب عن ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس (رضی اللہ عنہ)قال:قال رسول اللہ ا :’’من صام آخر۔۔۔۔۔الحدیث۔‘‘

حکم الحدیث: یہ حدیث موضوع ہے ۔ (۱)اس کی سند میں أحمد بن عبد اللہ الجویباری کذاب ہے ۔

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا ہے:’’دجال من الدجاجلۃ، کذاب،یروی عن ابن عیینۃ و وکیع و أبی ضمرۃ وغیرھم من ثقات أصحاب الحدیث ویضع علیھم ما لم یحدثوا وقد روی عن ھؤلاء الأئمۃ ألوف حدیث ما حدثوا بشئیی منھا‘‘(المجروحین: ۱؍۱۴۲؍۶۸) یعنی یہ دجالوں میں سے ایک دجال ، جھوٹا شخص ہے ،یہ ابن عیینہ،وکیع اور ابو ضمرۃ وغیرہ (رحمھم اللہ ) جیسے ثقات اصحاب حدیث سے روایت کرتا ہے اور ان پر ایسی حدیثیں گڑھتا ہے جو انہوں نے بیان ہی نہیں کی ہیں ۔اور اس نے ان ائمہ سے ہزاروں ایسی روایات بیان کی ہیں جن میں سے انہوں نے ایک بھی نہیں روایت کی ہے۔

امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’دجال،مغیر ،وضع حدیثا کثیرا ‘‘ (دیوان الضعفاء:۱؍۶؍۵۸)یعنی یہ دجال شخص ہے ،اس نے بہت سی احادیث گڑھی ہیں۔

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’کان یضع الحدیث‘‘ (الکامل لابن عدی:۱؍۱۷۷)یعنی یہ شخص حدیث گڑھتا ہے۔

(۲) نیز اس کی سند میں ایک دوسرا راوی ’’وہب بن وہب ‘‘ بھی کذاب ہے،اس کے بارے میں محدثین کے اقوال درج ذیل ہیں۔

امام ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے:’’وھب بن وھب بن کثیر بن عبد اللہ بن زمعۃ بن الأسود،القاضی،بو البختری القرشی،المدنی ۔روی عن ھشام بن عروۃوغیرہ و عنہ المسیب بن واضح وجماعۃ۔قال ابن معین:’’کان یکذب‘‘ یعنی امام ابن معین رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ راوی جھوٹا ہے۔(لسان المیزان:۶؍۲۳۱؍۸۳۰)

امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہے:’’سکتوا عنہ،کان وکیع یرمیہ بالکذب‘‘۔ دیکھئے (التاریخ الکبیر للبخاری:۸؍۱۷۰؍۲۵۸۱)

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا ہے:’’کان ممن یضع الحدیث علی الثقات‘‘یعنی یہ ثقہ راویوں کے حوالے سے حدیثیں گڑھتا تھا۔(المجروحین لابن حبان:۳؍۷۴؍۱۱۲۹)

*دوسری حدیث: ’’من وسع علی عیالہ فی یوم عاشوراء وسع اللہ علیہ فی سنتہ کلھا‘‘ (الموضوعات لابن الجوزی:۲؍۵۷۲؍۱۱۴۲،ضعیف الجامع:۱؍۸۴۸؍۵۸۷۳، سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ: ۱۴؍۷۳۸ ؍۶۸۲۴)

ترجمہ: جو شخص اپنے اہل و عیال پر عاشوراء کے دن(نان و نفقہ وغیرہ میں) کشادگی کرے گا تو ایسے شخص پر اللہ تعالی سال بھر (رزق میں)کشادگی کریگا۔

سند الحدیث: امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’انبأنا عبد اللہ بن علی المقری قال: أنبأنا جدی أبو منصور المقری قال :أخبرنا عبد السلام بن أحمد الأنصاری قال:أخبرنا أبو الفتح بن أبی الفوارس قال: حدثنا عبد اللہ بن محمد بن جعفر قال:حدثنا أحمد بن محمود بن صبیح قال: حدثنا ابراھیم بن فھد قال: حدثنا عبد اللہ بن عبد الجلیل قال:حدثنا ھیصم بن شداخ عن الأعمش عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ ا :من وسع علی ۔۔الحدیث‘‘۔(الموضوعات: ۲؍۵۷۲؍۱۱۴۲)

حکم الحدیث:امام البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے۔(دیکھئے :الضعیفۃ: ۱۴؍۷۳۸؍۶۸۲۴،ضعیف الجامع:۱؍۸۴۸؍۵۸۷۳) اس کی سند میں ایک راوی’’ ھیصم بن الشداخ ‘‘ ضعیف ہے۔ اس کے بارے میں محدثین کے اقوال درج ذیل ہیں

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا ہے:’’شیخ یروی عن الأعمش الطامات فی الروایات، لا یجوز الاحتجاج بہ‘‘ یعنی یہ أعمش کے حوالے سے باطل روایات بیان کرتا ہے، اس سے احتجاج درست نہیں۔(المجروحین لابن حبان: ۳؍۹۷؍۱۱۷۴)

امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے مجہول کہا ہے۔(الضعفاء الکبیر للعقیلی:۳؍۲۵۲؍۱۲۵۳)

امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ھیصم بن الشداخ۔ روی عن الأعمش و شعبۃ قال ابن حبان: یروی الطامات ، لا یجوز أن یحتج بہ‘‘یعنی ہیصم بن الشداخ نے أعمش اور شعبہ سے روایت بیان کی ہے ،امام ابن حبان نے کہا ہے کہ یہ باطل روایات بیان کرتا ہے ،اس سے حجت پکڑنا درست نہیں ہے۔(میزان الاعتدال للذھبی:۴؍۳۲۶؍۹۳۱۹)

ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے۔(لسان المیزان :۶؍۲۱۲؍۷۴۸)

*تیسری حدیث:’’من اکتحل بالاثمد یوم عاشوراء لم یرمد أبدا‘‘۔ (الموضوعات:۲؍۵۷۳؍۱۱۴۳، الضعیفۃ:۲؍۸۹؍۶۲۴،ضعیف الجامع: ۱؍۷۸۸؍۵۴۶۷)

ترجمہ: جس نے عاشوراء کے دن ’’اثمد ‘‘سرمہ لگایا تو کبھی بھی آنکھ دکھنے کی بیماری کا مریض نہیں ہوگا۔

سند الحدیث:امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’أنبأنا زاھر بن طاھر قال: أنبأنا أبو بکر أحمد بن حسین البیھقی قال: أخبرنی أبو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم قال:أخبرنا عبد العزیز بن محمد الوراق قال: حدثناعلی بن محمد الوراق قال: حدثنا الحسین بن بشر قال: حدثنا محمد بن الصلت قال: حدثنا جویبر عن الضحاک عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ ا :من اکتحل ۔۔۔الحدیث‘‘ (الموضوعات:۲؍۵۷۳؍۱۱۴۳)

حکم الحدیث: یہ حدیث موضوع ہے ۔علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے موضوع کہاہے۔ (الضیعفۃ: ۲؍۸۹؍۶۲۴،ضعیف الجامع:۱؍۷۸۸؍۵۴۶۷) اس حدیث کی سند میں ایک راوی ’’جویبر‘‘ کذاب ہے ۔اس کے بارے میں محدثین کے اقوال درج ذیل ہیں

یحییٰ (ابن معین) نے اس کو ضعیف کہا ہے۔(التاریخ الکبیر للبخاری:۲؍۲۵۷؍۲۳۸۳)

امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہیہ راوی متروک الحدیث ہے۔(دیوان الضعفاء:۱؍۶۸؍۷۹۹)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے : ’’ضعیف جدا ‘‘۔(تقریب التھذیب:۱؍۱۴۳؍۹۸۷)

اس کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھیں۔(تھذیب الکمال للمزی:۵؍۱۶۷؍۹۸۵، الضعفاء للعقیلی:۱؍۲۰۵؍۲۵۳،التاریخ و أسماء المحدثین وکناھم للمقدمی: ۱؍۱۱۳؍۵۱۸)

نیز اس سند میں دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک کا سماع ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔(میزان الاعتدال :۲؍۳۲۵؍۳۹۴۲)

* امام ابن القیم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یوم عاشوراء کو سرمہ لگانا ،تیل لگانا، خوشبو لگانا وغیرہ کے متعلق سب حدیثیں گڑھنے والے رواۃ کی وضع کی ہوئی چیزیں ہیں ۔(دیکھئے :الضعیفۃ:۲؍۸۹؍۶۲۴)