ہاں!اسلام دین مساوات نہیں ہے

اعجاز شفیق ریاضی

استاذ:المعہد، رچھا، بریلی

ہاں!اسلام دین مساوات نہیں ہے

قال تعالیٰ:(أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ لاَ یَسْتَوُونَ عِندَ اللّہِ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْن)(التوبۃ:19)
ترجمہ: کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجدِ حرام (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اُس شخص کے اعمال جیسا خیال کیاہے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتاہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے؟ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ۔
تشریح:اسلام اللہ رب العالمین کا نازل کردہ دین ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ اس کے پیش کردہ نظام میں نہ صرف یہ کہ انسانیت بلکہ تمام کائنات کی بقا ہے کہ اگر ان قوانین واحکام سے نظر چرالی جائے اور آسمانی نظام سے بغاوت کرکے من مانے طورایجادکرلیے جائیں تو بروبحر میں فساد کا ظہور یقینی ہے۔ اسلامی قانون ودستور کی یہ خاصیت ہے کہ ہر فرد کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی طبیعت وصلاحیت اور طاقت کو سمجھتے ہوئے ذمہ داریاں عائد کیں، اس کی ضرورت ، ذہنی وجسمانی ساخت کی رعایت کرتے ہوئے اس کو حقوق عطاکئے، جس طرح طاقتیں اور صلاحیتیں الگ الگ اسی طرح واجبات وذمہ داریاں بھی جداجدا، اور جس طرح ذہنی وجسمانی بناوٹیں متفاوت، ضرورتیں مختلف، اسی طرح حقوق میں بھی امتیاز وفرق ؛اور یہی عدل کا تقاضہ ہے کہ جو چیز جس کے موافق حال ہو وہ اسے دے دی جائے اور جو چیز مناسب نہ ہو بلکہ ضرررساں ہو وہ نہ دی جائے۔ یہ خوب واضح رہنا چاہئے کہ اسلام اسی طرح کے عادلانہ نظام کا نام ہے۔ اس میں ہر ایک کے درمیان برابری نہیں پائی جاتی اور نہ عقل اس کا تقاضہ کرتی ہے۔
اسلام اعمال وصفات میں اختلاف رکھنے والی دو چیزوں کے درمیان مساوات کا نہیں بلکہ عدم مساوات کا اعلان کرتاہے۔ غورکریں کھارے اور شیریں پانی والے دوسمندر وں کے درمیان عدم مساوات کو یوں بیان کیا گیا:(وَمَا یَسْتَوِیْ الْبَحْرَانِ ہَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَاءِغٌ شَرَابُہُ وَہَذَا مِلْحٌ أُجَاج)(الفاطر:۱۲) روشنی وتاریکی میں تفریق کی گئی اور ان کے ہم پلہ ہونے سے انکار کیا گیا ،فرمایا:(قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَمْ ہَلْ تَسْتَوِیْ الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ)(الرعد:۱۶) یہ بھی کہا گیا کہ مردوں اور زندوں کے مابین فرق ہے وہ باہم برابر نہیں ، کہا گیا :(وَمَا یَسْتَوِیْ الْأَحْیَاء وَلَا الْأَمْوَات)(الفاطر:۲۲) عالم وغیر عالم کے درمیان یکسانیت کی نفی کی گئی ،ارشاد ہوا:(قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الَّذِیْنَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُونَ إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَاب)(الزمر:۹) اور سمجھایا گیا کہ خبیث وناپاک اپنی اکثریت کے باوجود پاک وطیب کا درجہ نہیں پاسکتے (قُل لاَّ یَسْتَوِیْ الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ) (المائدہ:۱۰۰)

اعمال کی بنیاد پر بھی فرق کیا گیا ارشاد ہوا:’’کوئی عذرنہ ہونے کے باوجو دگھر وں میں بیٹھے رہنے والے مومن اور اپنی جانوں ومالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین برابر نہیں ہوسکتے۔ اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد کرنے والوں کواللہ نے بیٹھے رہ جانے والوں پرایک درجہ فضیلت دی ہے ،ان میں سے ہرایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے، مگر جہادکرنے والوں کو اجر عظیم دے کر جہاد نہ کرنے والوں پر اللہ نے فضیلت دی ہے۔ (النساء:۹۵) یونہی فتح مکہ سے قبل اور بعد مال خرچ کرنے اور جہاد کرنے والوں کے درمیان مساوات کی تردید کی گئی فرمایا: ’’تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیااور جہاد کیا وہ بعد میں خرچ کرنے اور جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں،کیوں کہ پہلے لوگ تو بہت بڑے درجہ پر فائز ہیں‘‘(الحدید:۱۱۔۱۰) یہ فرق یوں بھی بتایا گیا کہ کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجدِ حرام (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اُس شخص کے اعمال جیسا خیال کیاہے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتاہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے؟ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ۔(التوبۃ:۱۹) پھر رسول اللہ ا کے اس قول پر نظر ڈالیں کہ تم میں سے کوئی احد پہاڑبرابر بھی سونے خرچ کردے تو میرے صحابہ کے خرچ کئے گئے ایک یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔ (صحیح بخاری:۳۶۷۳) غورکریں کہ ہمارے اور صحابہ کے درمیان برابری کی کس قدر صاف نفی ہے۔ پس اسلام دین مساوات نہیں بلکہ دین عدل ہے ،ہر ایک کو اس کے موافق حال حقوق وذمہ داریاں دینے والا اور یہی خلاصہ ہے اس بات کا جو علامہ ابن عثیمین نے شرح العقیدۃ الواسطیہ میں فرمائی ہے:
اسلام نے مردوعورت کے درمیان بھی فرق رکھا ہے، کہا گیا: ’’لیس الذکر کالانثی‘‘ یعنی مرد ،عورت کی طرح نہیں ہے۔ ارشاد ہوا :’’وللرجال علیھن درجۃ‘‘مرد وں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ یہ بھی کہا گیا :’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ کہ مرد عورتوں پر قوام ہیں (نہ کہ عورتیں مردوں پر) جہاد، جماعت سے نماز اور جمعہ مردوں پر تو فرض کیا مگر عورتوں پر نہیں۔ عورتوں کو حیض ونفاس میں نماز وروزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی جو کہ مردوں کو حاصل نہیں ۔علاوہ ازیں بہت سے معاملات ایسے ہیں جہاں دونوں کے درمیان فرق کیاگیا ،برابری نہیں۔
بلکہ دونوں کو جو علاحدہ علاحدہ حقوق یا ذمہ داریاں دیں، دوسرے کے لیے ان کا مطالبہ کرنے پر روک لگادی۔ فرمایا:(وَلاَ تَتَمَنَّوْاْ مَا فَضَّلَ اللّہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ)(النساء:۳۲) طبری،بغوی، قرطبی، ابن کثیر، سعدی، طنطاوی اورابن عاشور کی بیان کردہ روایت کے مطابق یہ آیت ان عورتوں کے لیے تازیانۂ عبرت بن کر نازل ہوئی جنہوں نے مردوں کی طرح قتال وجہاد کی آرزو کی تھی۔ پس عورتوں کی جانب سے’اسلام دین مساوات ہے،جیسے غلط نعرے کی آڑ لے کرمردوں کی امامت‘ تنہا حج کرنے، مرد کو طلاق دینے یا دیگر مردانہ امور وخصال اپنانے یا ہرطرح ان کی برابری کرنے کا مطالبہ بے بنیاد گمراہ کن اور قابل مواخذہ ہے کہ ’’لعن اللہ المتشبہات من النساء بالرجال‘‘کا فرمان دربار نبوی سے وارد

ہے۔ اللہ صحیح سمجھ عطاکرے۔ آمین!